Authenticity Is Our Priority

مستقل مزاجی .دوسری اور آخری قسط

 

روکھی سوکھی کھا فریدا، ٹھنڈا پانی پی ۔ واہ بابا فریدرح  جی واہ کیا کہنے آپ قناعت کی کتنی عام فہم لیکن شاندار تھیوری پڑھا گئے ایسے ہی نہیں کہتے استاد استاد ہی ہوتا ہے ۔ رہ گئی عمل کی بات تو وہی کرتا ہے جس پر اللہ کرم کرے چاہے وہ غریب کچی نوکری والے سادہ صفت پرویز کی بیوی فرزانہ بی بی پر ہی کیوں نہ ہو ۔ کوئی چالیس سالہ چار بچوں کی ماں فرزانہ کی بائیں ٹانگ پولیو کی وجہ سے مفلوج تھی اور وہ دائیں ٹانگ پر دائیں بازو کا سہارا لیکر بڑی مشکل سے چلتی ۔ چند سال پہلے جب ہم سیالکوٹ شفٹ ہوئے تو اسے اس کے اصرار پر گھریلو کام کے لئے رکھا کیونکہ ہم اس کی ظاہری حالت کی بنا پر انکاری تھے ۔ رکھا کیا اس نے تو ہمارے دل ہی جیت لئے ۔ پہلے جھاڑو کی ذمہ داری لی پھر دو بچیوں کو ساتھ ملا کر کپڑے دھونے اور استری کرنے شروع کر دئیے ۔ یہاں تک کہ ہم اگر کہتے تو وہ برتن دھونے کو بھی تیار تھی ۔ یہ تو تھیں ذمہ داریاں مگر مستقل مزاجی کا یہ عالم دن دیکھا نہ رات، سردی دیکھی نہ گرمی، عید دیکھی نہ شب برات وہ ڈیوٹی پر ہوتی ۔ ناغہ اسکی زندگی میں تھا ہی نہیں ۔ ہاں سخت بیماری یا اپنے مہمانوں کی وجہ سے نہ آنا ہوتا تو بچیاں آ جاتیں ۔ کام اتنی توجہ سے کرتی کہ ہر جگہ اس کی نفاست نظر آتی ۔ مستقل مزاجی اور توجہ کے ساتھ جو چیز آتی ہے وہ ہے حفاظت ۔ اس نے ہماری ہر چیز کی حفاظت کی کوئی بھی گری ہوئی شے مثلاً سونے کی رنگ یا ایک ہزار کا گمشدہ نوٹ ہی کیوں نہ ہو بتا دیتی ۔ دوسری طرف اگر کبھی ہم طے شدہ معاوضہ کے علاوہ کچھ رقم دینے کی کوشش کرتے تو بہت اصرار پہ ہی لیتی ۔ حالانکہ مالی حالات اکثر فاقوں تک چلے جاتے تھے ۔ جوان بیٹی کی شادی کا مسئلہ اور  بڑے بیٹے کی کمر کا ٹیڑھاپن سامنے تھے ۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ وہ بھیک جیسی لعنت کی جانب نہیں گئی ورنہ اپنی جسمانی معذوری کی وجہ سے اتنی رقم اکٹھی کر سکتی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ شاباش فرزانہ بی بی شاباش! اچھے دن آنے والے ہیں بس مستقل مزاج رہو ۔ کوئی وقت جائے گا جب اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کے بچے اونچے عہدوں پر ہوں گے کیونکہ ٹیلنٹ مشکلات میں ہی پروان چڑھتا ہے ۔

سوہنے سیالکوٹ کو چھوڑے ڈیڑھ سال بیت چکے مگر فرزانہ سے رابطہ ہنوز باقی ۔ اسی طرح کے عظیم کردار مرحومہ اماں چراغاں آبائی شہر سمبڑیال میں اور بلقیس بی بی سیالکوٹ میں ملے ۔ گجرات تے فیر گجرات اے مٹھڑے لوکاں دی دھرتی ترجمہ ہو سکتا ہے مگر ماں بولی سا مزہ کہاں  ۔ اگر کوئی ان کے میٹھے جذبات کا ادراک  کرنا چاہے تو جناب ایم داؤد خان کی چیف آڈیٹرشپ میں نکلنے والے اردو روزنامہ جذبہ، گجرات، پاکستان کے اوراق دیکھے کہیں خوشی پہ اکٹھ تو کہیں غم پر اظہار ہمدردی کرنے والوں کا تانتا بندھا پائیں گے ۔ یہاں آئے تو ماسی کے کردار کو سرگودھا سے میاں اور بچوں کے ساتھ آئی اللہ رکھی نے اسی مشن کے تحت سنبھالا جو سیالکوٹ کی فرزانہ کا تھا ۔ اسکی بھی بچیاں اور بہو اسکے قدم بقدم بلکہ دو قدم آگے ٹبر کا ٹبر محنتی ۔ ماسیوں کا اپنایا ہوا فارمولا (مستقل مزاجی، توجہ اور حفاظت) وہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پہ آیا ہے نماز میں انہیں اپنانے کا حکم ہے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال رح سے معذرت کے ساتھ پڑھائے کس نے ان سادوں کو اسباق قرآں ۔

مستقل مزاجی کی عادت کو کسی دولت کی بنیاد چاہیے خواہ وہ قناعت کی ہی کیوں نہ ہو ۔ قناعت میں یہ خدمت گار ماشاءاللہ خود کفیل ہوتے ہیں ۔ اللہ کی تقسیم پر خوش، گلہ شکوہ سے دور اور شکر گزار ہوتے ہیں ۔ بدلے میں ان کو راحت کی وہ بلندی نصیب ہوتی ہے جو ایرے غیرے کو کہاں حاصل ۔ دیکھا جائے تو یہ اللہ کے وہ چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں جن کے نیک احساسات اور جذبات ان کے ایماندار رویہ کا تعین کرتے ہیں ۔ کرونا نے ان کے روز گار کو متاثر کیا ۔ زیادہ تر گھروں نے ان کی خدمات لینے سے معذرت کر لی ان کے مالی حالات اور نازک ہو گئے ۔ صورتحال تب خراب ہوتی ہے جب کچھ گھر والے بغیر ڈھونڈے بلا سوچے سمجھے گمشدہ چیز کا الزام ان پر لگا دیتے ہیں ۔ خیر سے وہ بعد میں مل بھی جاتی ہے مگر نہیں ملتی تو ان کی ماسی نہیں ملتی کیونکہ وہ صفائیاں دے دے کر کام چھوڑ چکی ہوتی ہے ۔ وجہ وہی ایماندار انسان کا من کانچ کا محل ہوتا ہے ادھر الزام کا پتھر لگا ادھر یہ کرچی کرچی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *