Authenticity Is Our Priority

 !!!! مستقل مزاجی

مجھے نہ دیا، کیا کوئی گناہ کیا ۔ یہ الفاظ کسی شاعر کے نہیں بلکہ خانہ بدوشوں کا روایتی لباس پہنے سینے سے بچہ لگائے یہی کوئی تیس پینتیس سالہ خاتون کے ہیں ۔ یہ دراصل ایک طرح کا احتجاج تھا جو اس نے کیا کیونکہ بازار میں کھڑے کھڑے میں پہلے ہی اسکی برادری کی دو بچیوں کو خیرات دے چکی تھی لیکن جب وہ ان کو دیکھ کر آئی تو ٹوٹے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس سے معذرت کر لی تھی ۔ اس کی مہربانی نہایت کشادہ دلی سے معاف کر دیا اور خاموشی سے چلی گئی ۔ ورنہ میں تو ذہنی طور پر غصے بھری بڑبڑاہٹ سننے کو تیار تھی ۔ عام طور پر خیرات کا نہ ملنا ان میں غصہ پیدا کرتا ہے جیسے ان کا کوئی موروثی حق مارا گیا ہو ۔ اس رویہ پر ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں شاید کچھ نہ دے کر کوئی گناہ ہو گیا ہے ۔ دل پریشان ہو جاتا ہے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے اپنے اس جرم کی معافی مانگتے ہیں اور آئندہ سے محتاط رہنے کا وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس گنجائش نہ بھی ہوئی تو کسی سے مانگ تانگ کے ان کی خدمت میں پیش کر دیں گے ۔ بد دعاؤں سے ڈر لگتا ہے خصوصاً جب کرونا گلی گلی موت بانٹتا پھر رہا ہو الحفیظ الامان ۔ لو پہلے تو بڑھی بوڑھیاں ہیجڑوں کی بد دعا سے ڈراتی تھیں اب اس قماش کے لوگوں کو بھی شامل کرا دیا کہاں جائیں خدایا ۔
میری ایک جاننے والی بتا رہی تھیں کہ ان کے ہاں ہر اتوار کو صبح صبح ایک مائی صاحبہ ڈور بیل بجا کر مانگتی تھیں ۔ انہیں اس وقت سخت حیرانگی ہوئی جب کسی نے بتایا کہ مانگنا ان کی عادت ہے ورنہ اس کے بیٹے تو کڑوڑ پتی ہیں اور امریکن ڈالر میں آمدن ہے۔ واہ! پانچوں گھی میں سر کڑاھی میں ۔ کوئی اس کے بچوں سے کہتا ہمیں مناسب رقم دے جایا کریں تا کہ ان کی مادر کو ہماری طرف سے زیادہ سے زیادہ پیسے ملیں اور وہ اچھی دیہاڑی لگنے کی خوشی پائیں مال غنیمت بار بار گنیں ۔ ہماری گناہ گار آنکھوں نے مانگنے والوں کو چمچماتی لینڈ کروزر میں جاتے دیکھا ہے اور بعض تو اچھے بھلے پبلک ٹرانسپورٹر اور کرایہ پر چڑھے مکانات کے مالک بتائے جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں نہ ہو جب ان کو دولت اور مستقل مزاجی کے باہمی تعلق کا پتہ ہو ۔ ناغہ کے بغیر سال کے تین سو پینسٹھ دن اور دن میں اسوقت تک گداگری کرنا جب تک جسم ساتھ نہ چھوڑ دے انہیں کی عادت ہے ۔ موسم کا کوئی اثر نہیں ۔ کام پوری توجہ سے کرتے ہیں اور اپنے شکار کو اسوقت تک نہیں چھوڑتے جب تک وہ کچھ دیتا نہیں یا کم از کم شرمندگی محسوس نہیں کرتا ۔ شکار کی نفسیات کے ساتھ کھیلتے ہیں جوان لڑکے کو خوبصورت بیوی کی اور نئے نویلے جوڑے کو چاند سے بیٹے کی دعا دیں گے ۔ کبھی کبھار تو بھائی بہن کو میاں بیوی سمجھ کر دعاؤں کا انبار لگا دیتے ہیں جبکہ مخاطب پریشانی سے زمین کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔
دولت کو رکھنے کا کوئی مسئلہ نہیں خفیہ ٹھکانے زندہ باد ۔ کوئی بنک دیوالیہ یا سرکار کی پوچھ گچھ نہیں ۔ مگر سرکار کی کالے دھن کو سفید کرنے کی آفر سے بھی زیادہ تر یہی لوگ فائدہ اٹھاتے نظر آئیں گے باقی سب سفید پوشی ہی سفید پوشی ۔ جتنی تیزی سے بغیر کسی لاگت کے ان کے ہاتھ روپیہ آتا ہے کسی کے پاس نہیں آتا کیونکہ دس کا نوٹ سب سے چھوٹی قابل قبول اکائی ہے ۔ ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ اس طرح کی کمائی کس زمرے میں آتی ہے ۔ ہمارا تو خیال ہے کہ مشہور ڈبل شاہ فیم ڈیلنگ بھی اس کے سامنے احساس کمتری کا اظہار کرتی ہو گی ۔ دوسری طرف مزدور شام کو جبکہ بابو لوگ مہینہ بعد محدود مایا کا دیدار کرتے ہیں ۔ گداگری میں روپیہ کا اتنی تیزی سے آنا اعتماد پیدا کرتا ہے اور مزید مانگنے کا جی چاہتا ہے ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی کی دکان چل نکلے تو مالک کی مرضی ہوتی ہے کہ کوئی چھٹی نہ ہو عید پر بھی کاروبار کروں ۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کتنی آمدن ہوتی ہو گی جب سارے کا سارا ٹبر خیرات کے کام میں غرق ہو ۔
خرچہ ہے کوئی نہیں کیونکہ روٹی کپڑا وغیرہ سوسائٹی کی ذمہ داری ہے ۔ دولت جمع ہوتی رہتی ہے ۔ پھر یہ عام نو دولتیوں کی طرح نمود و نمائش کی طرف جاتے ہیں ۔ ہاں خرچ کرنے پہ آئیں تو خوشی یا غمی کے موقع پر دیگیں کی دیگیں بکرے کا گوشت دیسی گھی میں تیار کروائیں ۔ چھوٹے بچوں کے ہاتھ پاؤں میں سونے کے کڑے ڈالیں ۔ لڑکوں کو کان میں سونے کی بالیاں پہنا دیں ۔ بیٹی کو شادی میں سونے کا تاج اور گھنگرو پہنی بھینس دیں ۔
ڈرتے یہ صرف پولیس سے ہیں ۔ مزہ تو اسوقت آتا ہے جب پولیس کے چھاپے پر اندھے لنگڑے گداگروں کی سب کچھ چھوڑ چھاڑ میراتھن ریس لگ جاتی ہے اور سب سے آخری اپاہج پولیس کے تیز ترین ملازم سے بھی دو فرلانگ آگے ہوتا ہے ۔ مستقل مزاج اتنے کہ اگلے ہی روز اسی جگہ پر نظر آئیں گے اور آپ داد دئیے بغیر نہ رہ سکیں گے ۔ جب بھی ملیں گے التجا کریں گے کہ صبح سے بھوکے ہیں دس روپے دے دیں ۔ اگر آپ کہیں کہ جاؤ پانچ ہزار کا نوٹ ہے ٹوٹا نہیں ہیں تو جھٹ ہاتھ بڑھا کر کہیں گے لائیں توڑ دیتے ہیں باجی ۔ ایسے بھی لمحات آتے ہیں آپ کی جیب تنگ ہے اور وہ دکاندار کو چھوٹے نوٹ دے کر ہزار ہزار کے نہ جانے کتنے نوٹ لیکر جاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ ہیں مستقل مزاجی کے رنگ جناب ۔ انشاءاللہ اگلا کالم مستقل مزاجی (دوسری قسط) گھریلو ملازماؤں پر ہو گا جو مانگنے پر محنت کو ترجیح دیتی ہیں ۔ روکھی سوکھی کھا، تے ٹھنڈا پانی پی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *